آسیب
کچھ تو پروری ہے
آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ آسیب،خبیث،چھلاوا،بھوت،جادو،سحرکا وجود نہیں ہے۔بچوں کی قصے کہانیوں میں بھی بھوت کا ذکر ملتا ہے۔عام طور پر ان کے بارے میں یہ رائے ہوتی ہے کہ یہ بہت خطرناک ہوتے ہیںاور چشم زدن میں ہر وہ کام کرسکتے ہیں جو انسان کے بس کی بات نہیں۔
یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ یہ تمام چیزیں صرف انسانی خیال کے علاوہ کچھ نہیں لیکن جناب موسیٰ ؑ جیسا نبی جس کا شمار بڑے رسولوں اور صاحب کتاب انبیاء میں ہوتا ہے اس کو بھی جادو کا سامنا کرنا پڑا،پیغمبرؐ اکرم پر سحر کیا گیاحتیٰ کے حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے بھی جادو گروں کی چال کا جواب اس شیر سے دیا جو قالین پر بنا تھا۔ کبھی کبھی حالات انسان کو ایسے موڑ پر لاکر کھڑا کر دیتے ہیں کہ اسے یہ بات نہ چاہتے ہوئے بھی قبول کرنا پڑتی ہے،چونکہ خدا وند قدوس نے خلقت میں ہر طرح کی مخلوق کو بنایا ہے ۔اچھے اور برے صفات کی بنیاد پر ان میں بھی تقسیم کی ہے۔
ہاں اس میں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ،بیماری الگ شےہے اور آسیب و جادو الگ۔جسمانی بیمانی کا علاج ڈاکٹر اور روحانی کا عامل کرتا ہے۔کبھی کبھی ہم اپنی بے عقلی کی بنیاد پر بیماری کو آسیب اور آسیب کو بیماری سمجھتے ہیںاور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نام نہاد عاملین بیماری کو آسیب بتا کر صرف پیسہ کیلئے انسان کو حیران و پریشان کرتے ہیں۔اسی طرح کی ایک چیز حاضری بھی ہوتی ہے۔یہ بھی دو طرح کی ہوتی ہے،ایک خاموش اور دوسری ہنگامہ ور۔آسیب کا شکار کوئی بھی ہو سکتا ہےچاہے وہ نومولود ہو یا سو برس کا بزرگ،حتیٰ کے کبھی کبھی جانور بھی ان کا شکار ہو جاتے ہیں۔مثلاً کبھی کسی کی بھینس دودھ دینا بند کر دیتی ہے یاکسی کا گھوڑا اپنے اوپر سواری نہیں کرنے دیتا،گھروں میں پلے ہوئے پرندے ایک ایک کر کے مر جاتے ہیں،گھر میں رکھی ہوئی چیز اچانک غائب ہو جاتی ہے اور بعد میں واپس مل جاتی ہے،وغیرہ وغیرہ۔
چیخنا،چلانا،چڑچڑاپن،حد سے زیادہ غصہ،مار پیٹ،چیزوں کا نقصان کرنا،مستقل سر درد،چکر آنا،آنکھوں کا سرخ ہو جانا،زبان کالی ہو جانا، حقیقت کو جھٹلانا،بار بار تھوکنا،منہ سے رال کا گرنا،نیند میں چیخنا،ڈرنا،شکوک و شبہات کی باتیں کرنا، غوطہ طہارت میں اضافی وقت خرچ کرنا،جیسی علامتیں پائی جاتی ہیں لیکن کبھی کبھی اسکے برعکس کچھ آسیب زدہ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بالکل خاموشی اختیار کئے ہوتے ہیں ان کو کسی دوسرے کا بولنا تک پسند نہیں ہوتا ہے۔ایسے لو گ تنہا رہنا چاہتے ہیں اور خاموش رہنےوالے لوگ زیادہ خطرناک ہوتے ہیں بہ نسبت شور کرنے والوں کے ۔
یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب مشکل ہے تو اس کا حل بھی ہوگا،پریشانیاں ہیں تو اس کا تدارک کرنے کا سامان بھی اس قادر مطلق نے ضرور معین کیا ہوگا۔ہاں اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم اس کےحل تک کس طرح پہنچتے ہیں۔ان تمام درد کا درماںدعا و عمل کے ذریعہ کیا جاتا ہےجسے ہم روحانی علاج کے نام سے جانتے ہیں۔مقصد یہ ہے کہ پہلے تو سمجھنا ہوگا کہ بیماری ہےیا آسیب اور پھر اس کے بعد اس کا علاج کیا جائے جو ممکن اور اسی دنیا میں ہےاس کیلئےکسی دوسری جگہ جانے کی ضرورت نہیںہے۔
ہم ان تمام روحانی مشکلات کا تدارک قرآنی آیات و دعاؤں کے ذریعہ سے کرتےہیں۔غیر شرعی کام کیلئے براہ کرم زحمت نہ کریں۔
