جادوگری اور شعبدہ بازی
جادوگری و شعبد بازی
اس دنیائے فانی میں اچھے اور برے،کالے و گورے،صحت مند و بیمار،امیر و غریب،پریشاں حال و خوشحال،طاقتور وکمزور،عالم و جاہل ، مذہبی و دنیادار غرض ہر طرح کے انسان رہتے ہیں۔جو لوگ مذہب کے پابند ہیں وہ اگر یہاں غریبی جھیل رہے ہیں تاہم آخرت کی ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کی امید ان کو خوش حال رکھتی ہے مگر جو صرف دنیا میں عیش و آرام کے خواہاں ہیں وہ اگر یہاں بے انتہا مال وزر اکٹھا بھی کر لیںتو بھی سکون قلب میسر نہیں ہوتا بلکہ ضروریات صحت کی بنیادی چیز ’’نیند‘‘کیلئے بھی طرح طرح کی دواؤں سے مدد لینا پڑتی ہے اور منفرد اقسام کی بیماریوں سے اپنے جسم کو ہزارہا قسم کی مصیبتوں کاشکار بنائے ہوئے ہیں۔
روحانی و سفلی عمل کے بارے میں بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عملیات،سفلی علوم،جادووسحر وآسیب نام کی کوئی چیز دنیا میں نہیں ہے بلکہ یہ انسانی وہم ہے اور ہندوستان و چند دیگر ممالک کے علاوہ مغربی ممالک میں کوئی اس کا قائل نہیں ہے۔صرف ہندوستانی عوام ہی توہمات کا شکار ہیں اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ نہ ہندوستان کی طرح وہاں مولانا تعویذ لکھتے ہیں اور نہ سادھو پنڈٹ منتر پڑھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہاں کی توہم پرستی تو الامان الحفیظ۔
زیادہ عرصہ نہیں ہوا کہ جنگ عراق کے دوران صدر امریکہ جارج بش نے کہا تھا کہ ’’خدا نے مجھ کو عراق پر حملے کا حکم دیا تھا لہٰذا میں نے عراق پر حملہ کر دیا‘‘۔جب امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کے صدر کی وہم پرستی اس انتہا پر ہے تو وہاں کی عوام کی نفسیات کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
ہمارے یہاں جادو کو ایک ناقابل تسخیر چیز سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ ایسا پیچیدہ علم نہیں ہے۔اکثر لوگ جس چیز کو سمجھ نہیں پاتے اسے جادو سے تعبیر کرتے ہیں اسی لئے جب راجواڑوں میں پہلی مرتبہ ٹرین چلی تو بہت سے لوگ جادو سمجھ کر بہت دور بھاگنے کی کوشش کرنے لگے اور بہت سے لوگوں نے دیوتا سمجھ کر پوجا شروع کر دی تھی اور آج جب پورے ہندوستان میں ریلوے لائینوں پر تیزی کے ساتھ ٹرین دوڑتی ہے تو نہ کوئی جادو سمجھتا ہے اور نہ کوئی پوجا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔در اصل تین علٰحدہ علٰحدہ چیزیں ہیں۔(۱)حقیقت(۲)شعبدہ۳)جادو
حقیقت:کسی تعارف کی محتاج نہیں یہ یہ خود کو ہر ایک سےمنوا ہی لیتی ہے جیسے روزانہ سورج کا نکلنا اور غروب ہو جانا کہ اس کے طلوع میں کوئی شعبدہ بازی ہے نہ جادو گری اور نہ غروب میں۔
شعبدہ بازی:کچھ حقیقت اور کچھ جادو وغیرہ کے اجزاء کو باہم ملا دیا جائے تو ایک شعبدہ تیار ہو سکتا ہے۔مثلاً مرنے کے بعد الو کی ایک آنکھ بند ہو جاتی ہے،اگر وہی آنکھ بروز منگل کسی کے بازو پر باندھ دی جائے تو کم خوابی کی شکایت فوراً دور ہو جائے گی اور اتنی گہری نیند آئے گی کہ ممکن ہے کہ موت پر ہی ختم ہو۔(اس میں ایک ترکیب خاصل کارگر ہوتی ہے جو بعض مجبوریوں کی بنا پر تحریر کرنا ضرور رساںہوسکتا ہے)یا اگر بھیڑ ئے اور بکری کی چربی کے چراغ تھوڑے فاصلے پر رکھ کر الگ الگ جلائے جائیں تو چراغ آپس میں خاموش ہونے تک لڑتے رہیں گے۔
جادو:یہ ایک حقیقت بھی ہےاور شعبدہ بھی،حقیقت اس وجہ سے کہ قرآن مجید میں بار بار اس کا ذکر آیا ہے اور شعبدہ اس وجہ سے کہ زن و شوہر میں جدائی ڈالنے کا بہت آسان ذریعہ ہے،کسی کا روزگار بند کرنا،فساد کروانا،بیمار ڈالنا،پریشان کرنا،گھر ویران کرنا،محبت کو نفرت میں تبدیل کرنااسکے معمولی نسخے ہیں۔پیغمبرؐ اکرم نے جادوگر کیلئے صرف ایک ہی حکم دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جادو گر کافر ہےاور اس کیلئے تلوار کی ایک ضرب ہے۔(یعنی سزائے موت)
ممکن ہے کہ بعض لوگوں کے دل میں یہ خیال آئے کہ پریشان کرنا،روزگار کی تنگیاںاگر جادو سے ہی سے ممکن ہے تو خدا….؟
ہماری گزارش ہے کہ ڈاکٹر جب مریض کو غلط دوا کے ذریعہ اپاہج کر سکتے ہیں ،غلط آپریشن کر کے انسان کو مار سکتے ہیںاور سماج اور انسان کی نظر میں مجرم بن سکتے ہیں تو جادو گر بھی کچھ اعمال قبیحہ کے ذریعہ انسانی زندگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور چاہے حکیم ہو یا ڈاکٹر یا جادوگر جو بھی انسانی زندگی سے کھلواڑ کرے اس کی سزا بس موت ہےاور یہی ہےمشہور زمانہ ’’ڈاکٹر ڈیتھ‘‘کا انجام ہے۔
