دل کا دورہ
دل کا دورہ
جو درد دل ہے تو پھر دل کا چین بھی ہوگا
اللہ نے قرآن مجید جیسی بیش قیمت کتاب ہماری رہنمائی کیلئے بھیجی اور ساتھ ہی اس بات کا اعلان بھی کر دیا کہ ’’قرآن تمہارے لئے رحمت و برکت کے ساتھ شفا‘‘بھی ہے۔اب یہاں پر بات سمجھنے کی یہ ہے کہ ’’شفا‘‘سے مراد کیا ہے؟کیا اس میں سر درد،بدن درد یا بخار کی دوا کا نسخہ لکھا ہوا۔
نہیں!یہاں شفا سے مراد روح کا پاک کرنا ہے۔جبکہ قرآن اس بات کا اعلان کر رہا ہے کہ اس میں ہر خشک و تر موجود ہے اور ان چیزوں کو بتانے ،سمجھانے کیلئے حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسی نوری شخصیت خدا کی جانب سے معین کی گئی جس نے اپنے نوری کلام سے ہر مسئلہ کا حل بیان کر دیا لیکن ہماری عقل و صلاحیت ایسی نہیںہے کہ ہم ان کلام کو اخذ کر سکیں اور وہ سمجھ سکیں جو وہ ہمیں سمجھانا چاہتے ہیں۔ہم قرآن پڑھتے ہیں لیکن دنیا کا کوئی شخص اس بات کا دعویٰ نہیں کر سکتا ہے کہ جو وہ سمجھ رہا ہے وہی لکھا ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں عملیات سے متعلق نظر رکھنے والے لوگوں کی تین قسمیں موجود ہیں۔
اول تو وہ لوگ ہیں جو صریحی طور سے اس کا انکار کرتے ہیں اور اس کے قائل نہیں ہیں بلکہ اس کے سخت مخالف ہیں۔دوسرے وہ لوگ ہیں جو پوشیدہ طور پر اس پر عمل پیرا ہیں اور اپنی مشکلات کا حل تلاش کرنے میں کوشاں رہتے ہیں۔و ہ لوگ اس کیلئے اتنی احتیاط سے کام لیتے ہیں کہ ان کےاعزہ واحباب تو دور ان کے گھر والوں کو بھی اس کا علم نہیں ہوتا ہےکہ وہ کسی عامل کے رابطے میں ہیں۔اور تیسری قسم ان حضرات کی ہے جن کا اس عقیدہ بھی ہے اور بہتر سے بہتر عمل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ایسے افراد کو دو اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
(۱)یہ وہ لوگ ہیں جو ہر کسی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتے ہیںیعنی آنکھ بند کر کے کسی بھی نام نہاد عامل یا بابا کی بات پر یقین کر لیتے ہیںاور اس کی کہی گئی ہر بات پر لبیک کہنا شروع کر دیتے ہیں خواہ اس کابتایا ہوا عمل فائدے کے بجائے نقصان دہ ہی کیوں نہ ثابت ہو جائے اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو وہ قرآن و احادیث کی مخالفت پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔
(۲)یہ حضرات وہ ہیں جو کسی بھی عامل یا مولوی کی بتائی ہوئی بات پر عمل کرنے سے پہلے اپنے ذاتی تجربے،شعور اور عقل کا استعمال کرتے ہیںاور پوری طرح سے اطمینان کرنے کے بعد اس پر عمل کرتے ہیں۔بس یہی لوگ فائدے میں رہتے ہیں۔
اب جو لوگ فائدے میں ہوتے ہیں ان کو یہ بات بہت سمجھ میں آجاتی ہے کہ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا حکم کیوں دیا گیا ہے۔قرآن مجید میں متعدد مقامات پر شفا کا ذکر موجود ہے جنہیں آیات شفا بھی کہا جاتا ہے۔اب آپ غور کیجئے کہ اللہ نے ان کو قرآن میں کیوں رکھا؟اس کیوں کا جواب ہمیں احادیث سے ملے گا جس کیلئے ہمیں ان کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔یا تو ہم خود اتنے باصلاحیت ہوں کہ ان چیزوں کو سمجھ لیں اور اگر ایسا نہیں ہے تو ہمیں کسی ایسے کی تلاش کرنی ہوگی جو ان چیزوں کو خود بھی اچھی طرح سے سمجھتا ہو اور ہمیں بھی سمجھا سکے۔
خلاصہ یہ کہ انسان کیلئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قرآن مجید و احادیث کے ذریعہ شفا و پریشانیوں کا حل یقینی ہے۔البتہ جو رہبر و راستہ دکھانے والا ہو اس کا اپنے فن میں کامل ہونا ضروری ہے۔
لہٰذا ہم نے لوگوں کی ضروریات و پریشانیوں کو نظر میں رکھتے ہوئے اس کا اقدام کیا ہےکہ جہاں تک ممکن ہو پریشاں حال افراد کی پریشانیوں کو دور کیا جا سکے۔
چونکہ مصیبت زدہ شخص اپنی آفت و پریشانیوں میں مبتلا ہونے کے باوجود اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ہم تک پہنچ سکےیا ہم اس تک رسائی حاصل کر سکیںاس لئے ایسے افراد کیلئے یہ طریقہ مناسب ہے کہ آپ اپنی پریشانیاں اور بیماری سے متعلق تفصیلات ہم کو بتائیں ،ہم اس کے قرآنی حل اور علاج سے آپ کو آگاہ کریں گے اور اگر صرف آپ سےمشکل کو حل کرنے یا بیماری کے علاج میں دشواریاں ہوگی تو آپ کی مدد کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔
