ڈپریشن
ڈپریشن یعنی مایوسی و ناامیدی
آج کی اس تیز رفتار زندگی میں انسان ایک دوسرے سے آگے نکلنے،کامیابی حاصل کرنے،خود کو ثابت کرنے کی جد و جہد میں اتنا آگے نکل گیا ہے کہ اس کو اس بات کی خبر ہی نہیں ہوتی کہ کب وہ ڈپریشن کا شکار ہو گیا۔ضرورت سے زیادہ کھانا،بہت زیادہ نیند ،اکیلا رہنا ،سماج اور معاشرے سے دور رہنا،یہ تمام چیزیں ڈپریشن کے آثار ہوتے ہیں۔
ڈپریشن ایک ایسی خطرناک دماغی بیماری ہے جس سے انسان سوچنے،سمجھنے،محسوس کرنے ،کام کرنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو کھو دیتا ہےبلکہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ بیماری انسان کیلئے تمام معاملات میں منفی اثر ڈالتی ہے۔کبھی کبھی تو حالات اس طرح کے ہو جاتے ہیں کہ انسان کو یقینی کام میں بھی بے یقینی کا پہلو نظر آتا ہے ۔
انسان کی زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں جس میں وہ کافی اُتار چڑھاؤ کے دور سے گزرتا ہے۔ڈپریشن کی کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے جیسے روزگار،صحت،گھریلو پریشانیاںوغیرہ۔عام طور پر یہ چیز بہت دنوں تک نہیں رہتی لیکن کبھی کبھی انسان آزاد ہوتے ہوئے بھی خود کو اس کا اسیر سمجھتا ہے کیونکہ وہ ان چیزوں کو اپنے سر پر اس طرح سوار کر لیتا ہے کہ اسے اٹھتے بیٹھے ان کے علاوہ اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
خود کو بیکار سمجھتا ہے،بلا وجہ اور غیر ضروری باتوں پر فکر کرتا ہے اور آخیر میں حالات اس قدر سنگین ہو جاتے ہیں کہ اس کا خود پر کنٹرول نہیں رہتا اور بات خود کشی تک پہنچ جاتی ہے۔ہرشخص کے عزیزوں،دوستوں اور جاننے والوں میں اس طرح کے مریض ملنا عام بات ہے۔
عام بول چال میں جسے ذہنی مریض کہا جاتا ہے اس علاج میڈیکل سائنس میں موجود ہے۔دوائیں اور ایسے ڈاکٹر موجود ہیں جو اس کا علاج کرتے ہیں لیکن آج تک کوئی ایسی دوا نہیں بنی جو انسان کے ذہن و دل کو پڑھ سکے اور اس کا علاج کر سکے۔
ہاں! ہر خشک و تر کا دعویٰ کرنے والی کتاب قرآن مجیداپنے دامن میں اس کا علاج سمیٹے ہوئے ہے۔ آئیے اپنی مشکلات کا حل ہم سے قرآن مجید کی روشنی میں حاصل کیجئے،ہم آپ کی خدمت کیلئے ہمہ وقت موجود ہیں۔
