نظر بد

نظر بد کی حقیقت اور علاج

نظر بد ایک راہ چلتے مصیبت میں مبتلا کرنے دینے والی مصیبت ہے اور اس کا تعلق انسان کی نیک اور بد ذہنیت پر منحصر ہے۔یوں تو جو لوگ عقائد میں پختہ اور پابند صوم و صلوٰۃ ہوتے ہیں وہ نظر بد سےبالعموم محفوظ رہتے ہیں لیکن جو افعال و کردار کے اعتبار سے مذہب سے دور،دنیاداری میں مگن رہتے ہیں وہ اکثر و بیشتر اس کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔
زمانہ قدیم سے کہاوت ہے کہ نظر بد اونٹ کو دیگ اور انسان کو قبر تک پہنچا دیتی ہے۔اس کا حملہ ایسا مضر جان و صحت ہے کہ جس کا شکار بیگانے اور دشمن کیااپنے محبوب افراد بھی ہو جاتے ہیں۔بعض اوقات بیٹے کو باپ کی نظر لگ جاتی ہے،بیٹا ماں کی نظر کا شکار ہو جاتا ہے،بھائی کو بھائی کی نظر لگ جاتی ہے اور ایک دوست دوسرے دوست کی نظر بد سے بربادی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ نظر کو نیک اور بد بنانا کسی حد تک خود انسان کے اپنے اختیار میں ہے لیکن بعض افراد کی نظر بری ہی ہوتی ہے ،حد یہ ہے کہ جس چیز کو ٹوک دیں اس کا خراب اور برباد ہونا تقریباً طے ہے۔ایسے افراد خود اپنی عادت میں تھوڑی سی تبدیلی کر کے اپنی نظر کے اثر کو دوسرا رخ دے کر لوگوں کو تکلیف میں مبتلا کرنے کے بجائے راحت پہنچا سکتے ہیں۔اس کا آسان اور احسن طریقہ یہ ہے کہ ایسے افراد اسلامی احکام کی پابندی کریں،محرمات،جھوٹ اور چغل خوری سے بچیںخصوصاً شراب اور غیبت(پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کرنا)اس سے پرہیز کریں۔
احادیث میں وارد ہوا ہے کہ جب تمہیں کوئی شخص یا کوئی چیز پسند آئے اور تم یہ چاہتے ہو کہ تمہاری نظر نہ لگے تو فوراً بلند آواز سے تین مرتبہ اللہ اکبر کہو۔اس طرح نظر بد کا فوری دفیعہ ہو جاتا ہے۔
بعض مواقع ایسے بھی ہیںجن میں خود انسان کو محتاط رویہ اپنانا چاہئےورنہ حاسد کی نظر بد کا شکار بننے سے محفوظ رہنا ممکن نہیں۔حضرات انبیاء علیہم السلام کے افعال اور اقوال اس کے شاہد ہیں کہ انہوں نے بھی محتاط رویہ اپنایا۔مثلاً جناب یعقوبؑ نے اپنے بیٹے کو اناج کیلئے مصر بھیجا تو ہدایت فرمائی تھی کہ تمام بیٹے بادشاہ مصر کے دربار میں الگ الگ دروازوںسے جائیں ،مبادایہ کہ کسی حاسد کی نظر نہ لگ جائےاور برادران یوسفؑ نے اسی ہدایت پر عمل کیا۔
تشخیص: بعض اوقات یہ پتہ نہیں چلتا کہ نظر لگی ہے یا کوئی مرض ہے۔لہٰذا نظر بد کی کچھ علامتیں تحریر کی جا رہی ہیںان کے ذریعہ کسی حد تک تشخیص ممکن ہے۔
علامات :سردرد،طبیعت میں گرانی و کسلمندی،آنکھوں کا متورم ہو جانا،بھوک نہ لگنا،مزاج میں چڑچڑاہٹ،سوتے وقت مسلسل کروٹ بدلتے رہنا۔بعض افراد بار بار کروٹ بدلنے کے عادی ہوتے ہیں وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔
علاج: گھر کی عورتیں اس کا علاج سوکھی لال مرچ،نمک،لیمو اور کالی مرچ جلا کر کرتی ہیں اور جلاتے وقت گھرمیں موجود لوگوں کو سانس

لینے میں دشواری نہ ہویا کھانسی نہ آئے تو اس کو نظر لگنے پر محمول کرتی ہیں،جبکہ یہ قطعاً شافی علاج نہیں ہے۔نظر بد کے اثرات کو باطل کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ روز جمعہ نماز فجر کے فوراً بعد گیارہ مرتبہ درود پڑھے اور اکتالیس مرتبہ سورہ ہمزہ(سورہ نمبر۱۰۴)کی صحیح تلاوت کرے بعدہٗ گیارہ مرتبہ درود پڑھ کر مریض پر دم کرے۔ان شاء اللہ نظر بد کے اثرات ختم ہو جائیں گے۔